نئی دہلی، 05 اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سال 2013 میں جنوبی دہلی کے ایک شخص نے اپنے گھر میں کرایہ پر رہنے والی امریکی خاتون سے ڈیجیٹل ریپ کیا تھا۔متاثرہ خاتون نے نچلی عدالت میں اس کی شکایت کی۔عدالت نے اس سال فروری میں ملزم کو قصوروار مانتے ہوئے 7 سال کی سزا سنائی۔ملزم نے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف دہلی ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ہائی کورٹ نے ملزم کو 25 ہزار روپے کے مچلکے پر ضمانت دے دی۔اس سے ناراض متاثرہ امریکی خاتون نے سان فرانسسکو میں واقع ہندوستانی سفارت خانے کے باہر احتجاج کرتے ہوئے ویڈیو بنائی۔اس ویڈیو میں خاتون نے دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کی مخالفت میں کہا کہ آپ ڈیجیٹل ریپ کرنے والے شخص کو ضمانت نہیں دے سکتے۔متاثرہ کا الزام ہے کہ اس معاملے میں سان فرانسسکو میں واقع ہندوستانی سفارت خانے نے اس کی مدد نہیں کی۔خاتون نے ویڈیو میں یہ بھی الزام لگایا ہے کہ وہ ہندوستانی سفارت بھی گئی تھی تاکہ انہیں دستاویزات سے مطلع کرا سکوں۔مجھ سے ہندوستانی سفارت خانے میں کہا گیا کہ آپ سیکرا جائیں،یہ معاملہ وہیں دیکھا جائے گا۔اب ویڈیو کے ذریعے خاتون ہندوستان میں رہ رہے اپنے دوستوں سے مدد مانگ رہی ہے کہ معاملے کو سپریم کورٹ میں لے جائے۔نچلی عدالت نے کہا تھا کہ ملزم راجیو پوار اس کمرے میں گھسا تھا جہاں متاثرہ سو رہی تھی۔اس کے بعد راجیو پوار نے خواتین کے ساتھ ڈیجیٹل ریپ کیا۔راجیو پوار پر تعزیرات ہند کی دفعہ 376 کے تحت ریپ / ڈیجیٹل ریپ کی سزا سنائی گئی تھی۔اس کے بعد راجیو پوار نے نچلی عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ویڈیو میں وہ دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر کہہ رہی ہے کہ آپ سزا یافتہ شخص کو ضمانت نہیں دے سکتے۔اس معاملے میں نچلی عدالت نے راجیو پوار کو قصوروار ٹھہرایا تھا۔دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس چندر شیکھر نے کہا کہ اس معاملے کی سماعت میں تھوڑا اور وقت لگے گا،اس لئے ملزم کو ضمانت دی جاتی ہے۔اسی حکم کی مخالفت میں متاثرہ خاتون نے ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ پتہ چلا کہ جس شخص نے میرا ڈیجیٹل ریپ کیا، جسے سزا دلانے کے لیے میں نے جنگ لڑی، اسے ضمانت دے دی گئی ہے۔اس نے کہا کہ آپ مجرم قرار دیے گئے مجرم کو ضمانت نہیں دے سکتے،وہ راجیو پوار کی سزا برقرار رکھنے کے لئے جدوجہد کرتی رہے گی۔ڈیجیٹل ریپ کا مطلب یہ نہیں کہ کسی لڑکے یا لڑکی کا جنسی استحصال انٹرنیٹ کے ذریعے ہو۔انگریزی میں انگلی، انگوٹھے اور پاؤں کی انگلی کوڈیجیٹل کہا گیا ہے،یعنی وہ جنسی تشدد کو ڈیجیٹل سے کیا گیا ہو اسے ڈیجیٹل ریپ کہتے ہیں۔جنوبی دہلی کے رہنے والے راجیو پوار نے اپنے گھر پر کرایہ پر رہنے والی امریکہ خاتون کا ڈیجیٹل ریپ کیا تھا۔متاثرہ نے شکایت درج کرائی اور نچلی عدالت فروری 2019 نے راجیو پوار کو مجرم قرار دیتے ہوئے سات سال کی سزا سنائی تھی۔دہلی ہائی کورٹ نے متاثرہ کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ راجیو پوار کو دہلی این سی آر چھوڑ کر باہر جانے پر پابندی لگا دی جائے۔کورٹ نے اسے قبول کرتے ہوئے کہا کہ راجیو بغیر اجازت دہلی چھوڑ کر نہیں جائے گا،ساتھ ہی وہ متاثرہ سے کسی طرح کا رابطہ نہیں رکھیں گے۔